اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ پیغمبر اسلام (ص) کے مقدس مزار کو تباہ کرنے اور ان کی قبر کو کسی نامعلوم مقام پرمنتقل کرنے کے سعودی منصوبہ پر جامعۃ الازھرکی جانب سے شدید ردعمل سامنے آ رہا ہے۔ سعودی عرب کی جانب سے پیغمبر اسلام حضرت محمد مصطفی (ص) کے مقدس مزار کو توڑنے اور ان کی مقدس قبر کو مدینہ کے بقيع نامی قبرستان میں کسی نامعلوم مقام پر منتقل کردینے کی منصوبہ بندی کے عام ہو جانے کے بعد مصر کی الازھر یونیورسٹی کی جانب سے شدید رد عمل سامنے آیا ہے۔
العالم ٹی وی چینل کی رپورٹ کے مطابق الازھر یونیورسٹی کے سابق وائس چانسلر احمد عمر ہاشم نے اس عمل کو مکمل طور پر حرام قرار دیاہے۔
احمد عمر ہاشم نے بدھ کو الشروق اخبار کو انٹرویو دیتے ہوئے واضح الفاظ میں کہا ہے کہ پیغمبر اسلام حضرت محمد مصطفی (ص) کے مزار کو کسی دوسرے مقام پر منتقل کرنا مکمل طور پر حرام ہے۔
انہوں نے کہا کہ اسلامی تعلیمات کے مطابق انبیاء الہی کی جس مقام پر وفات ہوتی ہے انھیں وہيں پر دفن کیا جاتا ہے۔ الازھر یونیورسٹی کے سابق وائس چانسلر احمد عمر ہاشم نے کہا کہ کسی بھی بہانے سے، چاہے وہ مسجد نبوی کی توسیع کا موضوع ہی کیوں نہ ہو، پیغمبر اسلام حضرت محمد مصطفی (ص) کی قبر کو کسی بھی دوسری جگہ منتقل نہیں کیا جا سکتا۔
الازہر یونیورسٹی کے ایک بزرگ عالم دین محمود مہنہ نے کہا ہے کہ پیغمبر اسلام حضرت محمد مصطفی (ص) کے مقدس مزار کو منتقل کرکے مسجد النبی کی توسیع، پیغمبر اسلام (ص) کی روایت کے برخلاف ہے۔
محمود مہنہ نے کہا کہ پیغمبر اسلام حضرت محمد مصطفی (ص) کے مقدس مزار کی منتقلی کے منصوبہ سے سنگین مسائل کھڑے ہوجائيں گے۔
اس مصری عالم دین نے پوری دنیا کے مسلمانوں بالخصوص بیدار علماء سے اس منصوبہ کی مخالفت کا مطالبہ کیا ہے۔
محمود مہنہ نے کہا کہ یہ منصوبہ وہابیوں کی دین ہے۔
الازھر کے ایک دیگر سینئر دینی عالم مشتاق مہنہ نے کہا ہے کہ کسی کو بھی پیغمبر اسلام (ص) کی قبر کو ایک مقام سے دوسرے مقام پرلے جانے کے بارے میں فیصلہ کرنے کا حق نہیں ہے۔انہوں نے کہا کہ اس سے مسلمانوں کے جذبات کو ٹھیس پہنچے گی۔
مختار مرذوقي نے کہا کہ پیغمبر اسلام حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ علیہ وآلہ وسلم کی مقدس قبر کو کھودنا ایسا عظیم گناہ ہے جس کا کوئی کفارہ نہيں ہے
انہوں نے کہا کہ خدا کے آخری پیغمبر حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مقدس قبر کو قیامت کے دن تک وہیں رہنا چاہئے جہاں وہ پہلے دن تھی۔
واضح رہے کہ انگریزی زبان کے اخبار انڈیپنڈینٹ نے لکھا ہے کہ سعودی عرب یونیورسٹی کے ایک پروفیسر نے 61 صفحات پر مشتمل اپنی رپورٹ میں پیغمبر اسلام حضرت محمد مصطفی (ص) کے مقدس مزار کو مسجد نبی سے قبرستان بقیع میں منتقل کرنے اور پیغمبر اسلام کے اہلبیت علیھم السلام اور ان کے ساتھیوں کے مقدس مقامات کو منہدم کرنے کامطالبہ کیا ہے۔
انڈیپنڈینٹ کے مطابق سعودی عرب کے اس پروفیسر کی رپورٹ کی کاپیاں، مدینہ میں مسجد النبی ع(ص) کے ذمہ داروں کے درمیان تقسیم کی گئی ہیں۔برطانوی اخبار انڈیپنڈینٹ نے لکھا ہے کہ سعودی عرب کے حکام نے اس بارے میں ابھی کوئی فیصلہ نہیں کیا ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۲۴۲